JavaScript is not enabled!...Please enable javascript in your browser

جافا سكريبت غير ممكن! ... الرجاء تفعيل الجافا سكريبت في متصفحك.


الصفحة الرئيسية

کابل کی ضد، اسلام آباد کا صبر: اب طالبان کے لیے راستے بند ہونے لگے ہیں۔

 کابل کی ضد، اسلام آباد کا صبر: اب طالبان کے لیے راستے بند ہونے لگے ہیں۔

چین کی ثالثی میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات ایک بار پھر کسی نتیجے تک نہ پہنچ سکے۔ میزیں بدل گئیں، شہر بدل گئے، چہرے بدل گئے، مگر کہانی وہی رہی۔ دوحہ میں بات ہوئی، استنبول میں ہوئی، ریاض میں ہوئی، ارومچی میں بھی کوشش ہوئی، مگر انجام ہر بار ایک جیسا نکلا۔ دونوں فریق اٹھے اور واپس اسی مقام پر جا کھڑے ہوئے جہاں سے چلے تھے۔

اس مسلسل ناکامی کی بنیادی وجہ صرف ایک ہے: دہشت گرد تنظیموں کے خلاف واضح، عملی اور ناقابلِ تردید اقدام۔

پاکستان برسوں سے ایک سادہ مطالبہ دہراتا آیا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔ جن گروہوں نے سرحد پار خون بہایا، انہیں پناہ، سہولت اور خاموش حمایت نہ دی جائے۔ پہلے مرحلے میں بات فتوی، یقین دہانی، تحریری وعدوں اور سفارتی بیانات تک محدود تھی۔ مگر اب حالات اس مقام سے آگے نکل چکے ہیں۔

اب افغان طالبان کاغذ پر کچھ بھی لکھنے کو تیار ہوں، پاکستان صرف کاغذ پر یقین کرنے کو تیار نہیں۔

کیوں؟ کیونکہ جھوٹے وعدے اعتماد کو کھا جاتے ہیں۔ بار بار کی غلط بیانی سمت بدل دیتی ہے۔ پاکستان اب الفاظ نہیں، نتائج دیکھنا چاہتا ہے۔

یہ معاملہ صرف سرحدی تنازع نہیں، طاقت، بقا اور اسٹریٹجی کا کھیل بن چکا ہے۔ دونوں فریق اپنی اپنی جیت چاہتے ہیں، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ افغانستان کی ضرورت پاکستان کو کم اور پاکستان کی ضرورت افغانستان کو زیادہ ہے۔

پاکستان کے افغانستان میں بڑے جیو اکنامک مفادات نہیں۔ اس کے برعکس افغانستان کی تجارت، رسد، نقل و حمل اور علاقائی رسائی بڑی حد تک پاکستان سے جڑی رہی ہے۔ ایران والا راستہ بھی مشکلات کا شکار ہو چکا ہے۔ ایسے میں افغانستان کے لیے پاکستان کے بغیر چلنا آسان نہیں، بلکہ شاید ممکن بھی نہیں۔

دوسری طرف بھارت نے اس صورتحال میں اپنا پرانا کھیل کھیلنے کی کوشش کی۔ اس کی کوشش تھی کہ ایک طرف افغان طالبان کے ذریعے پاکستان پر سیکیورٹی دبا ڈالا جائے، دوسری طرف اپنے معاشی مفادات بھی بڑھائے جائیں۔ مگر یہ منصوبہ مکمل کامیاب نہ ہو سکا۔

پاکستان نے ایران کو اپنے ساتھ انگیج کیا، علاقائی صف بندی بدلی، اور بھارت کو چابہار پورٹ کے میدان میں بھی دبا کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارت کا نقصان اپنی جگہ، مگر اصل مشکل افغانستان پر آئی، کیونکہ جس متبادل راستے پر امید رکھی گئی تھی، وہ بھی کمزور پڑنے لگا۔

اب افغانستان کو دوبارہ پاکستان کی طرف دیکھنا پڑا، مگر یہاں اسے وہ پاکستان ملا جو اب پرانی غلطیاں دہرانے کے موڈ میں نہیں۔

اسلام آباد نے واضح کر دیا کہ تعلقات ہوں گے، مگر شرائط پر۔ اعتماد بحال ہوگا، مگر عمل سے۔ سرحد محفوظ ہوگی، تبھی دروازے کھلیں گے۔

افغان طالبان کی جانب سے کوششیں ہوئیں، رابطے ہوئے، مگر پاکستان نے فوری نرم جواب نہیں دیا۔ اس خاموشی میں بھی ایک پیغام تھا۔

پاکستان نے ساتھ ساتھ اپنے اسٹریٹیجک اقدامات بھی کیے۔ تاجکستان کے ساتھ سفارتی رابطوں کے ذریعے بھارت سے وہ بیس خالی کروایا گیا جسے افغان طالبان کی معاونت سے جوڑا جا رہا تھا۔ ایران کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ بڑھائی گئی، جس سے خطے میں نئی صف بندیاں سامنے آئیں۔ کشیدگی کے دوران پاکستان نے پورے افغانستان کو نشانہ نہیں بنایا، بلکہ صرف ان مقامات کو فوکس کیا جہاں سے سیکیورٹی خطرات جنم لے رہے تھے۔

یہ فرق ایک ذمہ دار ریاست اور بے قابو ردعمل میں ہوتا ہے۔

آج افغان طالبان ایک مشکل صورتحال میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ لینڈ لاکڈ ریاست، محدود راستے، کمزور ہوتی تجارت، اور اندرونی دبا۔ تجارت متاثر ہو تو تاجر ناراض ہوتا ہے، روزگار رکے تو عوام سوال کرتے ہیں، اور جب عوام سوال کرنے لگیں تو حکومتیں پریشان ہو جاتی ہیں۔

اسی پریشانی کی جھلک اندرونی گرفتاریوں میں بھی نظر آتی ہے۔

معتصم آغا جان، جو طالبان تحریک کی پرانی اور اہم شخصیت سمجھے جاتے ہیں، انہیں قندھار سے حراست میں لیا گیا۔ وہ ماضی میں ملا عمر کے دور سے وابستہ رہے، بعد میں بیرون ملک گئے، پھر واپس لائے گئے، سرمایہ کاری بھی کروائی، مگر اب انہی پر ہاتھ ڈال دیا گیا۔

اطلاعات یہ بھی ہیں کہ کئی مذہبی و سیاسی شخصیات ایک نئی مذہبی تحریک بنانے پر غور کر رہی تھیں، جس میں پاکستانی اور افغان علما شامل ہو سکتے تھے، اور جس کا جھکا پاکستان نواز سمت میں سمجھا جا رہا تھا۔

بدخشاں میں بھی مزید گرفتاریاں ہوئیں۔ وزارت دفاع سے وابستہ افراد، میڈیا شخصیات، اور دیگر افراد کو حراست میں لیا گیا۔ کچھ کو رہا کیا گیا، کچھ کابل منتقل کر دیے گئے۔

یہ سب کچھ کسی پراعتماد حکومت کی علامت نہیں ہوتا۔ یہ خوف کی علامت ہوتا ہے۔

اس کے ساتھ ایک اور اہم واقعہ سامنے آیا۔ نورستان اور چترال کے قبائلی رہنماں کے درمیان افغان طالبان کی اجازت کے بغیر مذاکرات ہوئے، جن میں تجارتی راستے دوبارہ کھولنے پر بات ہوئی۔ یہ اشارہ ہے کہ جب ریاستیں ناکام ہوں تو لوگ خود راستے ڈھونڈنا شروع کر دیتے ہیں۔

پاکستان نے پہلے کہا تھا کہ ہم اپنے تجارتی راستے نکال لیں گے۔ اب وہ یہ کر بھی رہا ہے۔ ایران کے ذریعے وسطی ایشیا تک رسائی بڑھ رہی ہے۔ متبادل راہداریوں پر کام ہو رہا ہے۔ یعنی پاکستان کے پاس آپشنز بڑھ رہے ہیں، جبکہ افغانستان کے آپشنز سکڑ رہے ہیں۔

یہی اصل فرق ہے۔

افغان طالبان کو جس اسلحے پر غرور تھا،وہ پاکستان نے ختم تو نہیں کیا مگر کافی حد تک کم کیا۔ اسلئے اب وہ حکومت چلانے، معیشت سنبھالنے، تجارت کھولنے اور عوام مطمئن کرنے میں مدد نہیں دیتا۔ بندوق سرحد پار حملہ تو کرا سکتی ہے، مگر بازار آباد نہیں کر سکتی۔

افغانستان کی اصل جنگ اب باہر نہیں، اندر شروع ہو رہی ہے۔

اور اگر ضد، انکار اور پرانے کھیل جاری رہے، تو کئی نئی تحریکیں جنم لیں گی، کئی نئے سوال اٹھیں گے، اور وہی تخت ہلنے لگے گا جسے ناقابلِ تسخیر سمجھا جا رہا تھا۔

پاکستان نے اس پورے معاملے میں ایک بات ثابت کی ہے: صبر ہمیشہ کمزوری نہیں ہوتا، بعض اوقات صبر ہی سب سے سخت جواب ہوتا ہے۔


الاسمبريد إلكترونيرسالة