آرٹیمس2 مشن: خلا بازوں نے چاند کے نادیدہ رخ کا منفرد منظر دیکھ لیا
امریکی خلائی ادارے ناسا کے آرٹیمس2 مشن کے خلا بازوں نے چاند کے اس حصے کا مشاہدہ کیا ہے جوزمین سے کبھی نظر نہیں آتا، اوراسے ایک حیرت انگیز اور مختلف تجربہ قرار دیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق خلا بازوں نے اورائن کیپسول سے این بی سی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ چاند کا یہ رخ ان کے لیے بالکل نیا تھا۔ خلا باز کرسٹینا کوچ کے مطابق چاند کے سیاہ حصے اپنی معمول کی جگہ پر نہیں لگ رہے تھے اور یہ منظر زمین سے دکھائی دینے والے چاند سے مختلف محسوس ہو رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ حصہ ہے جسے انسانوں نے براہِ راست کبھی نہیں دیکھا۔
آرٹیمس 2 مشن کے 4 رکنی عملے میں ناسا کے خلا باز
ریڈ وائزمین، وکٹر گلوور اور کرسٹینا کوچ کے ساتھ کینیڈا کے خلا باز جیریمی ہینسن شامل ہیں، جو 50 سال بعد چاند کے گرد انسانی مشن پر روانہ ہوئے ہیں۔ یہ مشن 10 دن پر مشتمل ہے اور خلا باز اب چاند کے سفر کے نصف سے زیادہ مرحلہ طے کر چکے ہیں۔
خلا بازوں کے مطابق خلا میں زمین اورچاندکوایک ساتھ دیکھنا ایک غیر معمولی تجربہ ہے، جس نے انہیں حیرت اورعاجزی کے جذبات سے بھر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ خلا میں انسانی معمولات بھی جاری رہتے ہیں،جیسےآرام کرنا اور روزمرہ کے کام انجام دینا،جواس سفرکومزید منفرد بناتا ہے۔
مشن کے دوران خلا بازوں کوچند تکنیکی مسائل کا بھی سامنا رہا،جن میں ای میل سسٹم اورخلائی ٹوائلٹ کی خرابی شامل تھی، تاہم مجموعی طورپرسفرکوکامیاب قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس مشن کے دوران لی جانے والی تصاویر اور مشاہدات چاند کی ساخت اور نظامِ شمسی کی تشکیل کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ خلا بازجلدچاند کے قریب ترین مقام سے گزریں گے اور اس کے بعد زمین کی جانب واپسی کاسفرشروع کریں گے۔
