JavaScript is not enabled!...Please enable javascript in your browser

جافا سكريبت غير ممكن! ... الرجاء تفعيل الجافا سكريبت في متصفحك.


Startseite

امریکی اڈے، پٹرو ڈالر اور حالیہ جنگ کے متوقع فوائد

 امریکی اڈے، پٹرو ڈالر اور حالیہ جنگ کے متوقع فوائد

1973 کی یومِ کپور جنگ کے بعد عرب ممالک نے تیل کی پیداوار میں کمی کی، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمت 3 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر تقریبا 12 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔ اس اچانک اضافے نے عرب دنیا کو اربوں ڈالر کا غیر متوقع مالی فائدہ دیا۔ بظاہر یہ خوشحالی تھی، مگر درحقیقت یہی دولت ان کے لیے ایک ایسی آزمائش ثابت ہوئی جس نے انہیں معاشی اور سیاسی طور پر کمزور کر دیا۔ ان کے پاس ڈالروں کے انبار لگ گئے، مگر نہ تو ان کے پاس مثر منصوبہ بندی تھی اور نہ ہی ایسی صنعتی بنیاد موجود تھی جو اس دولت کو پیداواری سرمایہ میں بدل سکتی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دولت ان کے ہاتھ میں ہوتے ہوئے بھی ان کے اختیار سے باہر رہی۔

اسی دوران 1971 میں امریکی صدر نکسن نے ڈالر کو سونے سے الگ کر دیا، جسے معاشی تاریخ میں نکسن شاک کہا جاتا ہے۔ اس سے پہلے بریٹن ووڈز نظام کے تحت دنیا کی بڑی کرنسیاں امریکی ڈالر سے منسلک تھیں اور ڈالر سونے سے جڑا ہوا تھا۔ اس نظام کے باعث ڈالر عالمی معیشت کا ستون تھا اور ہر ملک کو اپنے ذخائر میں ڈالر رکھنا ضروری ہوتا تھا۔ لیکن جیسے ہی ڈالر کا سونے سے تعلق ختم ہوا، اصولی طور پر اس کی حیثیت کو شدید دھچکا لگنا چاہیے تھا۔ سوال یہ پیدا ہوا کہ اب دنیا ڈالر کو کیوں سنبھال کر رکھے؟

یہیں سے ایک نئی چال شروع ہوتی ہے۔ ایک طرف عرب ممالک تھے جو اپنی دولت کے انبار کے ساتھ حیران و پریشان کھڑے تھے، اور دوسری طرف امریکہ تھا جو اس موقع کی تاک میں تھا۔ امریکہ نے نہایت چالاکی سے سعودی عرب کو قائل کیا کہ وہ اپنی تیل کی فروخت صرف ڈالر میں کرے اور اپنی اضافی آمدنی کو امریکی ٹریژری بلز میں سرمایہ کاری کی صورت میں محفوظ کرے۔ اس کے بدلے امریکہ نے ان کی سکیورٹی کی ذمہ داری لینے کا وعدہ کیا۔ یوں ایک ایسا معاہدہ وجود میں آیا جس نے عالمی معیشت کا رخ بدل دیا۔

نکسن شاک کے بعد ڈالر کو زوال کا سامنا ہونا چاہیے تھا، مگر اس معاہدے نے اسے نئی زندگی دے دی۔ اب ہر اس ملک کے لیے ڈالر ضروری ہو گیا جو تیل خریدنا چاہتا تھا۔ یوں ڈالر ایک بار پھر عالمی معیشت کی شہ رگ بن گیا۔ یہ بظاہر ایک معاشی بندوبست تھا، مگر حقیقت میں یہ ایک ایسا جال تھا جس میں عرب ممالک خود چل کر داخل ہوئے۔ انہوں نے اپنی سب سے قیمتی دولت، یعنی تیل، کو ایک ایسی کرنسی کے ساتھ باندھ دیا جس پر ان کا کوئی کنٹرول نہیں تھا۔

شاید یہ معاشی تاریخ کا سب سے احمقانہ فیصلہ تھا، جس میں ایک خودمختار ملک نے اپنی کرنسی کی بجائے کسی دوسری کرنسی میں خرید وفروخت کا معاہدہ کر لیا۔ امریکہ کے لیے یہ کسی خواب سے کم نہ تھا۔ اب وہ محض کاغذی ڈالر چھاپ کر حقیقی وسائل، یعنی تیل، حاصل کر سکتا تھا۔ مزید حیران کن بات یہ تھی کہ یہ کاغذی ڈالر عرب ممالک کے پاس بھی نہیں رہتے تھے، بلکہ سرمایہ کاری کے نام پر دوبارہ امریکی مالیاتی نظام میں واپس چلے جاتے تھے۔ یوں ایک مکمل چکر قائم ہو گیا: امریکہ ڈالر چھاپتا، تیل خریدتا، اور وہی ڈالر واپس امریکہ میں سرمایہ کاری کی صورت میں لوٹ آتے۔ اس عمل نے امریکہ کو بے مثال معاشی طاقت دی، جبکہ عرب ممالک کو ایک مستقل انحصار کی زنجیر میں جکڑ دیا۔

چونکہ عرب ممالک کے پاس مسلسل اضافی ڈالر موجود رہتے تھے، اس لیے وہ شاذ و نادر ہی اپنی سرمایہ کاری واپس لینے کی کوشش کرتے۔ یوں ان کی دولت مستقل طور پر امریکی خزانے میں جمی رہی۔ سعودی عرب جیسے ممالک میں بچت کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ رہی، مگر یہ بچت درحقیقت قومی ترقی کی بجائے امریکی معیشت کو سہارا دینے میں استعمال ہوتی رہی۔

اسی دوران امریکی کمپنیوں نے تیل کے شعبے میں گہری جڑیں جما لیں۔ تیل کی پیداوار، ریفائننگ اور تقسیم کے نظام میں ان کی شراکت نے انہیں کھربوں ڈالر کا فائدہ پہنچایا۔ عرب ممالک بظاہر مالا مال تھے، مگر ان کی دولت کا بڑا حصہ ایک منظم طریقے سے واپس امریکہ منتقل ہو رہا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ دفاع کے نام پر ایک اور بڑا دھوکہ جاری رہا۔

سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک نے اپنے دفاعی بجٹ میں بے تحاشہ اضافہ کیا۔ سعودی عرب کا دفاعی بجٹ تقریبا 80 ارب ڈالر تک جا پہنچا، جو کئی ممالک کے مجموعی دفاعی اخراجات سے بھی زیادہ ہے۔ مگر یہ اخراجات درحقیقت مقامی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے بجائے امریکی اسلحہ خریدنے میں صرف ہوتے رہے۔ امریکہ نے اپنے پرانے اور غیر ضروری ہتھیار ان ممالک کو فروخت کیے، اور اس عمل کو سکیورٹی تعاون کا نام دیا گیا۔

امریکی فوجی اڈے بھی اسی حکمت عملی کا حصہ تھے۔ بظاہر یہ اڈے عرب ممالک کے دفاع کے لیے قائم کیے گئے، مگر حقیقت میں یہ امریکہ کے علاقائی تسلط کو مضبوط کرنے کا ذریعہ بنے۔ ان اڈوں کی موجودگی نے عرب ممالک کو نہ صرف سیاسی طور پر محدود کیا بلکہ انہیں مسلسل خطرات کی زد میں بھی رکھا۔

جب بھی کسی عرب ملک نے آزادانہ پالیسی اختیار کرنے کی کوشش کی، کوئی نہ کوئی بحران پیدا ہو گیا۔ ایران-عراق جنگ نے خلیجی ممالک کو خوفزدہ کر کے دوبارہ امریکی سائے تلے لے آیا۔ بعد ازاں عراق خود ایک خطرہ بن کر ابھرا، اور ایک بار پھر انہی ممالک نے امریکہ سے مدد طلب کی۔ یوں ایک ایسا چکر قائم ہو گیا جس میں خوف، انحصار اور مالی استحصال ایک دوسرے کو تقویت دیتے رہے۔

2025 میں قطر پر حملے نے اس پورے نظام کی حقیقت کو مزید واضح کر دیا۔ جن اڈوں اور معاہدوں کو تحفظ کی ضمانت سمجھا جاتا تھا، وہ عملی طور پر بے کار ثابت ہوئے۔ امریکہ نہ تو خود کو مثر طریقے سے بچا سکا اور نہ ہی اپنے اتحادیوں کو۔ اس واقعے کے بعد سعودی عرب نے کچھ حد تک شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے دفاعی نظام کو متنوع بنانے کی کوشش کی اور پاکستان جیسے ممالک کے ساتھ تعاون بڑھایا۔ مگر مجموعی طور پر خلیجی پالیسی میں کوئی بنیادی تبدیلی نظر نہیں آئی۔

حقیقت یہ ہے کہ امریکی اڈے عرب ممالک کے لیے اثاثہ نہیں بلکہ بوجھ بن چکے ہیں۔ ان کی موجودگی نے ان ممالک کو بار بار تنازعات کا نشانہ بنایا، جبکہ امریکہ نے اپنی ترجیحات ہمیشہ اپنے مفادات کے مطابق طے کیں۔ حیران کن امر یہ ہے کہ جہاں عرب ممالک امریکہ کو کھربوں ڈالر کا فائدہ پہنچاتے ہیں، وہیں امریکہ اپنی پالیسیوں میں اسرائیل کو فوقیت دیتا ہے، چاہے اس سے اسے مالی نقصان ہی کیوں نہ ہو۔

اصولی طور پر تو عرب ممالک کو امریکہ سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ جس تحفظ کے بدلے وہ دہائیوں سے بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں، وہ کہاں ہے؟ بلکہ انہیں اس ناکامی پر ہرجانہ طلب کرنا چاہیے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس نظام میں اتنی جرات پیدا کرنا آسان نہیں۔

موجودہ حالات میں عرب دنیا کے پاس ایک موقع ضرور موجود ہے۔ پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ وہ امریکی فوجی اڈوں کی شکل میں موجود ان بوجھل ذمہ داریوں سے نجات حاصل کریں۔ دوسرا اور زیادہ اہم قدم یہ ہے کہ وہ پیٹرو ڈالر کے نظام سے باہر نکلنے کی سنجیدہ کوشش کریں۔ جب تک تیل کی تجارت ایک غیر ملکی کرنسی کے ساتھ منسلک رہے گی، تب تک معاشی خودمختاری ایک خواب ہی رہے گی۔

اگر عرب ممالک واقعی اپنی تقدیر بدلنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنی دولت کو اپنی شرائط پر استعمال کرنا ہوگا، نہ کہ کسی اور کے طے کردہ اصولوں کے تحت۔ بصورت دیگر، تاریخ خود کو دہراتی رہے گی، اور دولت کے انبار کے باوجود انحصار اور کمزوری ان کا مقدر بنی رہے گی۔


NameE-MailNachricht