سابق امریکی سفارت کار نے بھارتی اینکر کو لائیو شو میں کھری کھری سنا دیں
امریکا ایران جنگ بندی میں پاکستان کے فیصلہ کن کردار سے بھارت اور گودی میڈیا میں صف ماتم بچھ گئی، بھارتی اینکر کو مضحکہ خیزی پر سابق امریکی سفارتکار نے براہ راست نشریات میں کھری کھری سنا دیں۔
پاکستان میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سکیورٹی پر احمقانہ سوال کرنے پر بھارتی اینکرکو سابق امریکی سفارتکار جیفری گنٹر نے آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ امریکی نائب صدر پاکستان میں مکمل محفوظ ہیں،بھارتی میڈیا سکول کے بچوں والا طرز عمل دکھا رہا ہے۔
جیفری گنٹر نے کہا کہ یہ زندگیوں کا معاملہ ہے، یہ روزگار کا معاملہ ہے، یہ مہنگے پٹرول کا معاملہ ہے، بھارتی میڈیاکا اس نازک معاملے کو بھارت پاکستان تنازع میں تبدیل کرنا افسوسناک ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں بھارتی میڈیا کو اس کے شرمناک رویے پر بطور سزا 30 منٹ کیلئے کمرے میں بند کرنا چاہوں گا، بھارتی میڈیا کو بے کار بحث و مباحثے میں الجھنے کے بجائے جنگ بندی کو سراہنا چاہئے۔
اس سے پہلے بھارت کے متنازعہ ترین اینکر پرسن ارناب گوسوامی نے اپنے پروگرام میں چین سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی امور کے ماہر پروفیسر وکٹر گا کو مخاطب کرتے ہوئے سوال پوچھا کہ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ایک پوری تہذیب کو تباہ کرنے سے لے کر یکطرفہ جنگ بندی کے درمیان کیا کچھ ہوا؟
وکٹر گا نے اپنے جواب کا آغاز پاکستان کی تعریف سے کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے تو آپ کو پاکستان کو اس بات کا کریڈٹ دینا چاہئے کہ اس نے ان مذاکرات کے لیے راہ ہموار کی ماحول فراہم کیا۔
پاکستان کی تعریف سنتے ہی بھارتی اینکر حواس باختہ ہو گیا اور وکٹر گا کو اس سے آگے بولنے کی اجازت ہی نہ دی جس کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر موجود ہے اور ارنب گوسوامی پر تنقید کی جا رہی ہے۔
ماہرین کیمطابق امن مذاکرات جیسے حساس معاملے کو متنازع بناکر گودی میڈیا خطے میں کشیدگی بڑھانے کی شرمناک روش پرقائم ہے، پاکستان مخالف پراپیگنڈا کی کوشش میں مودی حکومت خود سفارتی تنہائی کا شکار ہوچکی ہے اور گودی میڈیا کی چیخیں اس کا واضح ثبوت ہیں۔
