JavaScript is not enabled!...Please enable javascript in your browser

جافا سكريبت غير ممكن! ... الرجاء تفعيل الجافا سكريبت في متصفحك.


Startseite

میئر نیویارک ظہران ممدانی نے قرآن پاک پر عہدے کا حلف اٹھا لیا

میئر نیویارک ظہران ممدانی نے قرآن پاک پر عہدے کا حلف اٹھا لیا

نیویارک:امریکا کے شہر نیویارک کے پہلے مسلمان میئر ظہران ممدانی نے قرآن پاک پر عہدے کا حلف اٹھا لیا۔نیویارک میں منعقد تقریب میں ظہران ممدانی نے قرآن شریف پر ہاتھ رکھ کر حلف لیا۔ ظہران ممدانی نیویارک کے 111ویں اور پہلے مسلمان میئر ہیں۔نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز نے سٹی ہال کے نیچے ایک تاریخی سابق سب وے اسٹیشن پر ظہران ممدانی سے نیویارک سٹی کے میئر کی حیثیت سے حلف لیا۔ اس موقع پر ظہران ممدانی کی اہلیہ بھی موجود تھیں۔ نیویارک سٹی کی سیاسی تاریخ میں یکم جنوری کو ایک منفرد اور علامتی لمحہ رقم ہوگیا، ظہران ممدانی نے بطورِ میئر عہدے کا حلف اٹھا لیا۔ وہ نیویارک کے پہلے میئر بن گئے جنہوں نے حلف برداری کے دوران قرآنِ پاک کو بطور مذہبی کتاب استعمال کیا۔ اس اقدام کو شہر کی متنوع آبادی کی نمائندگی اور شہری تاریخ میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا گیا۔ظہران ممدانی کا تعلق ایک ایسے پس منظر سے ہے جو اس سے قبل نیویارک کے میئر کے دفتر میں نظر نہیں آیا۔ وہ جنوبی ایشیائی نژاد، نوجوان نسل سے تعلق رکھنے والے اور مسلمان ہیں۔

ظہران ممدانی ان چند امریکی منتخب عہدیداروں میں شامل ہوگئے جنہوں نے قرآن پر حلف اٹھایا ہے۔اٹارنی جنرل نیویارک لیٹیا جیمز نے ظہران ممدانی سے ان کے عہدے کا حلف لیا۔ اس موقع پر ظہران ممدانی کی اہلیہ بھی موجود تھیں۔ تقریب میں ظہران ممدانی نے اپنے دادا کے قرآنِ کریم کے ساتھ ساتھ ایک اور تاریخی قرآن پاک پر حلف اٹھایا جو معروف سیاہ فام مورخ اور ادیب آرتورو شومبرگ کی ملکیت تھا اور نیو یارک پبلک لائبریری نے خصوصی طور پر فراہم کیا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ جس قرآنِ کریم کا انتخاب کیا گیا ہے وہ آرتورو شومبرگ کی ذاتی لائبریری کا حصہ تھا حالانکہ وہ خود مسلمان نہیں تھے۔شومبرگ سیاہ فام تاریخ، ثقافت اور تحقیق کے بڑے علمبردار سمجھے جاتے ہیں اور ان کا یہ قرآن نیویارک کی متنوع تاریخ اور شناخت کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔نیویارک پبلک لائبریری میں مشرقِ وسطی اور اسلامی مطالعات کی کیوریٹر حبا عابد نے بتایا کہ انہوں نے ممدانی کی سینئر مشیر زارا رحیم اور ممدانی کی اہلیہ راما دواجی کے ساتھ مل کر اس تقریب کے لیے قرآن کے انتخاب میں مدد کی۔ان کے مطابق یہ لمحہ ایمان، شناخت اور نیویارک کی تاریخ کو ایک ساتھ جوڑتا ہے۔شومبرگ کا قرآنی نسخہ پہلی بار عوام کے لیے ایک خصوصی نمائش میں پیش کیا گیا۔امریکی قانون کے مطابق منتخب عہدیداروں کے لیے حلف اٹھاتے وقت کسی مذہبی کتاب کا استعمال لازم نہیں، تاہم روایت کے طور پر بیشتر میئر بائبل پر حلف اٹھاتے رہے ہیں۔

ظہران ممدانی کا کہنا تھا کہ ان کے لیے یہ بات خاص اہمیت کی حامل ہے کہ وہ ایک ایسا قرآن استعمال کریں جو ان کے خاندان سے جڑا ہو، اور ساتھ ہی ایک ایسا نسخہ بھی جو نیویارک کی تاریخ میں ایک نمایاں مقام رکھنے والی شخصیت سے تعلق رکھتا ہو۔زارا رحیم کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ شہر کی عوامی زندگی میں مسلمانوں کی طویل عرصے سے نظر انداز کی گئی نمائندگی کی کمی کو پورا کرنے کی ایک کوشش ہے۔زارا رحیم کا کہنا تھا یہ لمحہ نیویارک سٹی کی شہری تاریخ میں ایک نیا موڑ ثابت ہوگا اور ان تمام لوگوں سے تعلق رکھتا ہے جنہوں نے اس شہر کی تشکیل میں کردار ادا کیا مگر کبھی خود کو اس کی قیادت میں نمائندگی ہوتے نہیں دیکھا۔ زارا رحیم نے بتایا تھا کہ حلف برداری کی تقریبات کے دوران کم از کم تین مختلف قرآن پاک استعمال کیے جائیں گے، جن میں خاندانی ورثہ اور نیویارک کی تاریخی شخصیات سے وابستہ نسخے شامل ہوں گے۔ماضی میں بھی نیویارک کے میئرز نے حلف برداری کے دوران ذاتی یا تاریخی اہمیت رکھنے والی اشیا استعمال کی ہیں۔سن 2021میں ایرک ایڈمز نے اپنی والدہ کی بائبل اور ان کی تصویر کے ساتھ حلف اٹھایا تھا، جبکہ بل ڈی بلازیو نے سابق امریکی صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ کی بائبل استعمال کی تھی۔اس روایت کا آغاز 2007میں منی سوٹا کے اٹارنی جنرل کیتھ ایلیسن نے کانگریس میں کیا تھا، جس کے بعد رکنِ کانگریس الہان عمر نے بھی قرآن پاک پر حلف اٹھایا۔نیویارک میں 2022میں سٹی کونسل کی رکن شہانہ حنیف نے بھی خاندانی قرآنی نسخے پر حلف لیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ممدانی کا یہ اقدام نہ صرف نیویارک بلکہ دنیا بھر کی مسلم کمیونٹی کے ساتھ یکجہتی کی ایک مضبوط علامت ہے۔ممدانی نے عبوری اور افتتاحی تقریبات کے لیے 26لاکھ ڈالر جمع کیے، جو اس صدی میں ایک ریکارڈ ہے۔ میئر بننے کے بعد وہ استوریا کے کرایہ کنٹرول اپارٹمنٹ سے گریسی مینشن منتقل ہوں گے، جبکہ کاروباری حلقے اب ان کے ساتھ کام کے امکانات پر غور کر رہے ہیں۔


NameE-MailNachricht