سموگ دراصل Smoke اور Fog یعنی دھوئیں اور دھند کا مرکب ہے۔ جب فضا میں دھول، گاڑیوں کا دھواں، کارخانوں سے خارج ہونے والی گیسیں، فصلوں کی باقیات جلانے کا دھواں اور دیگر آلودگی کے ذرات جمع ہو جاتے ہیں تو وہ سورج کی روشنی کے ساتھ کیمیائی تعامل کرکے ایک زہریلی تہہ بنا دیتے ہیں۔ یہ تہہ زمین کے قریب معلق رہتی ہے، جس سے نہ صرف حدِ نگاہ کم ہوتی ہے بلکہ سانس لینا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی نے بارشوں کے نظام کو متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے فضا میں موجود آلودگی صاف نہیں ہو پاتی۔ کبھی کبھار کئی ہفتوں تک خشک موسم رہنے سے یہ ذرات فضا میں معلق رہتے ہیں اور سورج کی شعاعوں کو زمین تک پہنچنے سے روکتے ہیں۔نتیجہ درجہ حرارت میں کمی اور آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف ماحولیاتی توازن بگاڑ رہی ہے بلکہ عوامی صحت کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔
سموگ کے صحت پر اثرات انتہائی خطرناک ہیں۔ ماہرین طب کے مطابق، سموگ سانس کی بیماریوں، دمہ، کھانسی، نزلہ، آنکھوں کی جلن، جلد کی الرجی اور دل کے امراض میں اضافہ کرتی ہے۔ سب سے زیادہ متاثرہ طبقہ بچے، بوڑھے اور وہ لوگ ہیں جنہیں پہلے سے سانس یا دل کی بیماری لاحق ہو۔ ہسپتا لوں میں ہر سال سموگ کے موسم میں مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا جاتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت WHOکے مطابق، آلودہ فضا ہر سال لاکھوں اموات کا باعث بنتی ہے، اور پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں فضائی معیار خطرناک حد تک نیچے جا چکا ہے۔
سموگ کے بڑھتے ہوئے مسئلے کو روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سب سے پہلے حکومت کو چاہیے کہ زرعی باقیات جلانے پر سختی سے پابندی لگائے، کیونکہ پنجاب کے دیہی علاقوں میں کسان کھیتوں میں فصل کی باقیات جلا کر نئی فصل کی تیاری کرتے ہیں، جس سے بے تحاشا دھواں فضا میں شامل ہوتا ہے۔ اسی طرح گاڑیوں کی دھوئیں کے اخراج کو کم کرنے کے لیے فٹنس سرٹیفکیٹ کا نظام مو ثر بنایا جائے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال کو فروغ دیا جائے تاکہ ذاتی گاڑیوں کا استعمال کم ہو۔ صنعتی علاقوں میں فیکٹریوں کو فلٹر لگانے کا پابند کیا جائے تاکہ نقصان دہ گیسوں کا اخراج کم سے کم ہو۔
عوامی سطح پر بھی احتیاط لازمی ہے۔ شہریوں کو چاہیے کہ سموگ کے دوران غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں، ماسک کا استعمال کریں، آنکھوں کی حفاظت کے لیے چشمہ پہنیں، اور زیادہ پانی پئیں تاکہ جسم میں زہریلے اثرات کم ہوں۔ اسکولوں اور دفاتر میں ایئر پیوریفائر کے استعمال کو فروغ دینا بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
حکومت کو اس مسئلے کو صرف ایک موسمی عارضہ سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے بلکہ اسے ماحولیاتی ایمرجنسی کے طور پر لینا ہوگا۔ شجرکاری مہمات، متبادل توانائی کے ذرائع کا فروغ، گاڑیوں میں الیکٹرک نظام کی حوصلہ افزائی، اور صنعتی فضلے کی مو ثر نگرانی اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے ضروری ہیں۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ سموگ صرف ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک قومی صحت کا بحران ہے۔ اگر ہم نے بروقت اور سنجیدگی سے اقدامات نہ کیے تو آنے والی نسلیں ایک ایسے ماحول میں سانس لینے پر مجبور ہوں گی جو زندگی کے لیے زہر بن چکا ہوگا۔ قدرتی ماحول کا تحفظ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے، اور یہی ذمہ داری ہمیں ایک صاف، صحت مند اور پائیدار پاکستان کی طرف لے جا سکتی ہے۔